• The Facebook Platform

Results 1 to 1 of 1
  1. #1
    Join Date
    Jul 2011
    Posts
    151
    Points
    170.49
    Rep Power
    159

    new_new { مجھے اللہ سے شرم آرہی ہے!}

    { مجھے اللہ سے شرم آرہی ہے!}


    خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا بھائی خلیفہ ہشام بن عبد الملک بن مروان بیت اللہ شریف کے حج کو آیا- طواف کے دوراں میں اس کی نگاہ زاہد و متقی اور عالم ربانی سالم بن عبداللہ بن عمر رض پر پڑی جو اپنا جوتا ہاتھ میں اٹھائے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے- ان کے اوپر ایک کپڑا اور ایک عمامہ تھا جس کی قیمت 13 درھم سے زیادہ نہیں تھی-
    خلیفہ ہشام نے کہا:

    "کوئی حاجت ہو تو فرمائے"-

    سالم بن عبداللہ رض نے کہا:

    " مجھے اللہ سے شرم آرہی ہےکہ میں اس کے گھر میں ہوتے ہوئے کسی اور کے سامنے دست سوال دراز کروں"-

    یہ سننا تھا کہ خلیفہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا- اس نے سالم بن عبداللہ رض کے جواب میں اپنی سبکی محسوس کی- جب سالم بن عبداللہ حرم شریف سے باہر نکلے تو وہ بھی ان کے پیچھے ہی حرم سے نکل پڑا اور راستہ میں ان کے سامنے آکر کہنے لگا:







    " اب تو آپ بیت اللہ سے باہر نکل چکے ہیں ، کوئی حاجت ہو تو فرمائيں (بندہ حاضر ہے)"-

    سالم بن عبداللہ گویا ہوئے:

    " آپ کی مراد دنیاوی حاجت سے ہے یا اخروی حاجت سے؟!"-

    خلیفہ ہشام نے جواب دیا:

    "اخروی حاجت کو پورا کرنا تو میرے بس میں نہیں؛ البتہ دنیاوی ضرورت پوری کرسکتا ہوں؛ فرمائيں-

    سالم بن عبداللہ کہنے لگے:

    " میں نے دنیا تو اس سے بھی نہیں مانگی ہے جس کی یہ ملکیت ہے- پھر بھلا میں اس شخص سے دنیا کیوں طلب کرسکتا ہوں جس کا وہ خود مالک نہیں؟!"-

    یہ کہ کر اپنے گھر کی طرف چل دیے اور ہشام بن عبدالملک اپنا سا منہ لے کر رہ گیا


 

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •