• The Facebook Platform

Results 1 to 1 of 1
  1. #1
    Join Date
    Jul 2011
    Posts
    151
    Points
    170.49
    Rep Power
    159

    newblink حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ


    حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ53 - حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ







    رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ’’حسین منی و انا من الحسین‘‘ یعنی 'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اور مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دنیا میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بدولت قائم رہیگا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفے کے چھوٹے نواسے علی علیہ السلام و فاطمہ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔

    ولادت
    ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی۔ اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب تشریف لائے، بیٹے کو گود میں لیا، داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دیدی. پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السلام کی غذا بنا۔ ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔ آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت محسوس کی جاتی تھی مگر آنے والے حالات کاعلم پیغمبر کی آنکھوں میں آنسو برساتا تھا۔
    نشوو نما
    پیغمبراسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کاگہوارہ تھی اب دن بھردو بچوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسرے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے . ایک طرف پیغمبر اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف حضرت فاطمہ زہرا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پرورش ہوئی۔
    رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت

    جیسا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں لکھا جاچکا ہے کہ حضرت محمد مصطفے اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے. سینہ پر بیٹھاتے تھے . کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو . مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے . ایسا ہو ا ہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پشت مبارک پرآگئے تو سجدہ میں طول دیا. یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علیحدہ ہوگیا . اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کردیا۔ منبر سے اتر کر بچے کو زمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ دیکھو یہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو۔
    رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد
    امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ابھی چھ سال کی تھی جب انتہائی محبت کرنے والے نانا کا سایہ سر سے اٹھ گیا .اب پچیس برس تک حضرت علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام کی خانہ نشینی کادور ہے . اس زمانہ کے طرح طرح کے ناگوار حالات امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھتے رہے اور اپنے والد بزرگوار کی سیرت کا بھی مطالعہ فرماتے رہے. یہ وہی دور تھا جس میں آپ نے جوانی کے حدود میں قدم رکھا اور بھر پور شباب کی منزلوں کو طے کیا ۔
    53ھء میں جب حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر 13برس کی تھی عام مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام ا بن ابی طالب علیہ السلام کو بحیثیت خلیفہ اسلام تسلیم کیا. یہ امیر المومنین علیہ السلام کی زندگی کے آخری پانچ سال تھے جن میں جمل صفین اور نہروان کی لڑائیں ہوئی اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی نصرت اور حمایت میں شریک ہوئے اور شجاعت کے جوہر بھی دکھلائے ۔ .04ھء میں جناب امیر علیہ السلام مسجد کوفہ میں شہید ہوئے اور اب امامت وخلافت کی ذمہ داریاں امام حسن علیہ السلام کے سپرد ہوئیں جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے بھائی تھے. حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک باوفا اور اطاعت شعار بھائی کی طرح حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دیا اور جب امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے شرائط کے ماتحت جن سے اسلامی مفاد محفوظ رہ سکے معاویہ کے ساتھ صلح کرلی تھی تو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس مصلحت پر راضی ہوگئے اور خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ عبادت اور شریعت کی تعلیم واشاعت میں مصروف رہے مگر معاویہ نے ان شرائط کو جو امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوئے تھے بالکل پورا نہ کیا خود امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سازش ہی سے زہر دیا گیا۔ حضرت علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام کے شیعوں کو چن چن کے قید کیا گیا۔ سر قلم کئے گئے اور سولی پر چڑھایا گیا اور سب سے آخر اس شرط کے بالکل خلاف کہ, معاویہ کو اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کرنے کا حق نہ ہو گا۔ معاویہ نے یزید کو اپنے بعد کے لیے ولی عہد بنا دیا اور تمام مسلمانوں سے اس کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور زور و زر دونوں طاقتوں کو کام میں لا کر دنیائے اسلام کے بڑے حصے کا سر جھکوا دیا گیا۔
    شہادت
    امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صلح کی ایک بنیادی شرط یہ تھی کہ ان کے بعد کوئی جانشین مقرر نہیں ہوگا مگر امیر شام نے اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کیا اور اس کے لیے بیعت لینا شروع کر دی۔ کچھ اصحاب رسول رضی اللہ تعالی عنہ نے اس بیعت سے انکار کر دیا جیسے حضرت عبداللہ بن زبیر۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ یزید کا کردار اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں تھا۔
    یزید کی تخت نشینی کے بعد اس نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت لینے کی تگ و دو شروع کر دی۔ یزید نے مدینہ کے گورنر اور بعد میں کوفہ کے گورنر ابن زیاد کو سخت احکامات بھیجے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت لی جائے۔ محمد ابن جریر طبری، ابن خلدون ، ابن کثیر غرض بہت سے مفسرین اور مورخین نے لکھا ہے کہ ابن زیاد نے یزید کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خاندان رسالت کوکربلا میں قتل کیا اور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔

    اخلاق و اوصاف
    امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلسلہ امامت کے تیسرے فرد تھے۔ عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے- آپ کی عبادت, آپ کے زہد, آپ کی سخاوت اور آپ کے کمال اخلاق کے دوست و دشمن سب ہی قائل تھے- پچیس حج آپ نے باپیادہ کئے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاں پایا کہ فرمایا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں میری سخاوت اور میری جرات ہے۔ چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجت مندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا- اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیا تھا- راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیوائوں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے- حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے لیے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی۔ اب تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو, کم سے کم اپنی ہی عزت نفس کا خیال کرو۔ غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتا ئوکرتے تھے- ذرا ذرا سی بات پر آپ انہیں آزاد کر دیتے تھے- آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا- مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کی جاتی تھی- آپ کی دعائوں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے- ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ہوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رہے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فورا زمین پر بیٹھ گئے- اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی- اس بناء پر کہ صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا- اس خاکساری کے باوجود آپ کی بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں آپ تشریف فرماہوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے جو لوگ آپ کے خاندان کے مخالف تھے وہ بھی آپ کی بلندی مرتبہ کے قائل تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاکم شام معاویہ کو ایک سخت خط لکھا جس میں اس کے اعمال و افعال اور سیاسی حرکات پر نکتہ چینی کی تھی اس خط کو پڑھ کر معاویہ کو بڑی تکلیف محسوس ہوئی- پاس بیٹھنے والے خوشامدیوں نے کہا کہ آپ بھی اتنا ہی سخت خط لکھئے- معاویہ نے کہا, میں جو کچھ لکھوں گا وہ اگر غلط ہو تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں اور اگر صحیح لکھنا چاہوں تو بخدا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مجھے ڈھونڈنے سے کوئی عیب نہیں ملتا-
    آپ کی اخلاقی جرات , راست بازی اور راست کرداری , قوتِ اقدام, جوش عمل اور ثبات و استقلال , صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں- ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک انچ نہ ہٹے- انہوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی- اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی۔


 

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •