• The Facebook Platform

Results 1 to 1 of 1
  1. #1
    Join Date
    Jul 2011
    Posts
    151
    Points
    170.49
    Rep Power
    159

    Default فرض اور نفل عبادات میں بنیادی فرق

    فرض عبادات ایسی عبادات ہیں جن کا ادا کرنا شریعت نے لازمی قرار دیا ہے۔ ان میں کوتاہی کی صورت میں انسان آخرت میں جوابدہ ہو گا۔ جبکہ نفل عبادات بہت اجر و ثواب کا باعث تو بنتی ہیں لیکن ان کے ادا نہ کرنے پر انسان آخرت میں جوابدہ نہیں ہو گا۔

    نماز کے اعمال و اذکار میں ایک حصہ شریعت نے مقرر کر دیا ہے جس میں کمی بیشی کرنا درست نہیں ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ افراد کے اختیار پر ہے۔ اس دوسرے حصے میں اعمال و اذکار کا انتخاب نمازی کے اپنے فہم، ذوق اور حالات پر چھوڑا گیا ہے۔ لوگوں کے فہم، حالات اور طبیعتوں میں فرق کی وجہ سے اس دوسرے حصے میں اختلاف واقع ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔

    لازمی حصہ

    پہلی تکبیر میں کانوں تک ہاتھ بلند کر کے ' اللہ اکبر' کہنا
    قیام میں سورۂ فاتحہ پڑھنا اور اس کے ساتھ قرآن کا کچھ حصہ ملانا
    رکوع کرنا اور اس میں اللہ تعالی کی تسبیح کرنا
    رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونا اور پھر دو دفعہ سجدہ کرنا اور اس میں اللہ تعالی کی تسبیح پڑھنا
    اسی ترتیت سے دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد قعدہ یا تشہد میں بیٹھنا۔ اس میں خدا سے دعا کرنا اور سلام پھیر کر نماز ختم کر دینا۔ چار رکعات کی صورت میں اسی ترتیب کو سلام پھیرے بغیر دہرانا اور آخر میں سلام پھیرنا۔

    دوسرا حصہ

    سورۂ فاتحہ سے پہلے خدا کی حمد کے کلمات پڑھنا
    پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن کے کسی بھی حصے کا انتخاب
    رکوع اور سجدہ میں اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرنے کے الفاظ
    قعدہ میں دعا مانگنا
    "ضروری نوافل" کی ترکیب اپنے معنی کے لحاظ ہی سے غلط ہے۔ نماز کے اعمال و اذکار میں صرف وہی ضروری ہیں، جنھیں شریعت نے مقرر کر دیا ہے۔









 

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •