• The Facebook Platform

Results 1 to 1 of 1
  1. #1
    Join Date
    Jul 2011
    Posts
    151
    Points
    170.49
    Rep Power
    159

    Default اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جان


    اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جانا


    قضاء واختیار کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا فیصلہ اور انسان کی آزادی عمل , حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اسلاف ،صالحین ،،علمائے کرام، متقین اور مرشدین کرام ہر معاملے میں عملی پہلو کو زیر بحث لایا کرتے اور تقدیر وتوکل پرکلی تکیہ نہ کرتے اور اس موضوع کی علمی پیچیدگیوں میں کبھی نہ پڑتے ۔

    ایک مرتبہ سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے دورِ خلافت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک جماعت کے ساتھ ملک شام کے سفر پر روانہ ہوئے ۔ راستے میں کچھ لوگوں نے خبر دی کہ ایک وبائی مرض پھیل رہا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ سے مشورہ طلب کیا ۔ مہاجرین اصحاب نے اتفاق رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں واپس پلٹ جانا چاہئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ ان کا مشورہ قبول کرتے ہیں اور واپسی کا حکم دیتے ہیں ۔

    ان میں جلیل القدر صحابیٔ سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا ۔

    اے امیر المومنین ! کیا یہ اللہ کی تقدیر سے فرار نہیں ؟

    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اور یہ بات کہتا تو قابلِ مواخذہ ہوتا ۔

    سنو یہ اللہ کی تقدیر سے فرار نہیں بلکہ اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جانا ہے

    انہوں نے اس موقف کو واضع اس طرح سے کیا کہ اے ابو عبیدہ ! اگر تمہارے پاس چند اونٹ ہوں اور تم ایسی ایک وادی کے دامن میں ہو جس کے ایک جانب ہرا بھرا اور زرخیز علاقہ ہو

    اور دوسری جانب خشک اور بنجر، تو بتاؤ

    کہ اگر تم اپنے اونٹ کو سرسبز علاقے میں لے جاؤ تو کیا یہ اللہ کی تقدیر ہو گی

    اور اگر تم یہ اونٹ خشک اور بنجر خطے میں لے جاؤ تو کیا یہ اللہ کی تقدیر کے خلاف ہوگا

    اس واقعہ میں واضع دلیل ملتی ہے کہ اللہ سبحانہ تعالٰی کی تقدیر پر ایمان و اعتقاد کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ بہترین تدبیر ،حکمت عملی، وسائل اور عملی جدو جہد اختیار کی جائے ۔

    معلوم ہوا کہ ہم پر واجب ہے کہ یہ عقیدہ رکھیں کہ ہر خیر اور شر کی تقدیر اللہ سبحانہ تعالٰی قادر مطلق کے علم کامل اور ارادہ غیر متزلزل پر منحصر ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ اللہ سبحانہ تعالٰی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضع احکام کا مطالعہ کریں اور ان کے مطابق عمل کریں اور نافرمانیوں سے بچیں ۔ یہ سمجھ لیں کہ جو فرائض اور اسلامی کردار کا پابند ہوگا تو وہ سعادت مندوں میں شمار ہوگا اور جو منکرات کا خوگر ہوجائے گا تو اسے بری عاقبت سے دوچار ہونا پڑے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ایک دائرہ کار میں رہتے ہوئے اختیارات بھی دئے ہیں اور ان اختیارات کے استعمال میں ہم ایک خاصی حد تک آزاد بھی ہیں اور یہ آزادی اللہ تعالٰے کی عطاکی ہوئی ہے نہ کہ ہماری اپنی حاصل کی ہوئی ہے








 

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •