• The Facebook Platform

Results 1 to 1 of 1

Thread: Touheed

  1. #1
    Join Date
    Apr 2010
    Age
    23
    Posts
    1,401
    Points
    1,620.64
    Rep Power
    10000

    Default Touheed

    شیخ صالح آل الشیخ کتاب "کشف الشبہات" از امام محمد بن عبدالوہاب (رحمۃ اللہ علیہ) کی شرح کرتے ہوئے مندرجہ ذیل واقعہ نقل کرتے ہیں:
    شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب (رحمۃ اللہ علیہ) اپنے شاگردوں کے ساتھ تشریف فرماتھے ، اور انہوں نے آج "کتاب التوحید" کی تکمیل فرمائی تھی لیکن شیخ اسے ایک بار پھرازسرے نو شروع کرنا چاہتے تھے، حالانکہ غالباً وہ تین یا چار مرتبہ پہلے بھی "کتاب التوحید" اپنے شاگردوں کو پڑھا چکے تھے۔ جس پر ان کے شاگردوں نے عرض کی: "یا شیخ! ہم اب کوئی دوسری کتاب پڑھنا چاہتے ہیں جیسے فقہ یا حدیث کی کتاب"۔ شیخ نے جواب میں فرمایا: "کیوں؟ (تم دوسری کتاب پڑھنا چاہتے ہو)"۔ تو شاگردوں نے جواب دیا: "دراصل ہم توحید کو اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں، اسی لئے ہم کسی دوسرے علم کی کتاب بھی پڑھنا چاہتے ہیں"۔ شیخ نےفرمایا: "ذراٹھہرو، میں اس کے بارے میں کچھ سوچ کر بتاؤ ں گا۔"
    کچھ دنوں بعد شیخ درس کے لئے تشریف لائے اور شاگردوں نے دیکھا کہ شیخ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ انہوں نے اس کا سبب دریافت کیا ، تو شیخ نے فرمایا کہ ان کاگزر ایک ایسی چیز سے ہوا جس نے انہیں سخت غم وغصے میں مبتلا کردیا۔ شاگردوں نے عرض کی بھلا وہ کیا چیز تھی۔ آپ نے فرمایا: "مجھے کسی نے یہ خبر دی کہ فلاں گھر کے مکینوں نے (جنات کا تقرب حاصل کرنے کے لئے) ایک مرغا اپنے گھر کی دہلیز پر ذبح کیا ہے، اور میں ایک شخص کو اس بات کی تصدیق کروانے کے لئے بھیج چکا ہوں"۔
    کچھ عرصے بعد شاگردوں نے اس معاملے کے بارے میں شیخ سے دریافت کیا، تو آپ نے بتایا کہ: "(تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ) درحقیقت اس گھر کے مکینوں نے غیراللہ کے لئے کوئی جانور ذبح نہیں کیا تھا، بلکہ وہاں کوئی شخص تھا جس نے اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کی تھی۔"
    اس بات پر ان کے شاگردوں کو شدید دھچکا لگا اور سب بے ساختہ پکار اٹھے: "نعوذ باللہ! اس نے اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کی؟ نعوذ باللہ! اس نے اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کی؟۔۔۔"
    اس واقعہ کی نشاندہی کرنے کے بعد شیخ صالح آل الشیخ (جو خود بھی شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کے پڑپوتوں میں سے ہیں) فرماتے ہیں کہ شیخ الاسلام (رحمۃ اللہ علیہ) نے یہ واقعہ اس لئے بیان فرمایا تھا کہ یہ کہنا کہ: "ہم توحید کو سمجھ چکے ہیں" جہالت وگمراہی ہے اور شیطان کی بڑی چالوں میں سے ایک ہے۔ کیونکہ ان شاگردوں نے ماں کے ساتھ بدکاری کے کبیرہ گناہ کو شرک سے بڑھ کر تصور کیا جو کہ اسلام سے ہی انسان کو خارج کردیتا ہے،کیونکہ جب ان کے سامنے شرک کا ذکر کیا گیا جو کہ اسلام سے انسان کو خارج کردیتا ہے تو ان کے دلوں میں اتنا غم وغصہ پیدا نہ ہوا (جتنا اس کبیرہ گناہ پر ہوا)۔
    بلاشبہ یہی حالت آج بھی ہے کہ جب کچھ جاہل یا گمراہ لوگ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہوتے دیکھتے ہیں تو شدید غیض وغصب میں آجاتے ہیں مگر جب وہ شرکِ اکبر کا سنتے یا لوگوں کو شرک کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جیسے غیراللہ کے لئے ذبح اور نذرونیازوغیرہ تو ان کے دل حرکت نہیں کرتے[1]۔
    یہ ان کی جہالت وگمراہی کی دلیل ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ انہوں نے ابھی تک توحید کو (کماحقہ) نہیں سمجھا۔







    [1] ہم میں سے ہر شخص اس کا تجربہ خود ہی کرسکتا، اس مضمون ہی کی مثال لیجئے کہ اس میں جب شرک کا ذکر آیا تو ہمارے دلوں میں کیا کیفیت پیدا ہوئی اور جب اس کے بعد اس کبیرہ گناہ کا ذکر آیا تو ہم نے کیا محسوس کیا۔ اللہ تعالی ہمارے دلوں کو غیرتِ توحید سے بھر دے۔ آمین


 

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •