• The Facebook Platform

Results 1 to 1 of 1
  1. #1
    Join Date
    Feb 2011
    Posts
    163
    Points
    187.89
    Rep Power
    170

    new_new رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے شمائل

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے شمائل:

    چہرہ مبارک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کا چہرہ مبارک بڑا با رعب تھا، اور سورج اور چاند کی طرح گولائی مائل تھا، جب آپ خوش ہوتے تو چہرہ مبارک ایسا چمکتا گویا کہ وہ چاند کا ایک ٹکرا ہے، پیشانی کی شکنیں چمکتی تھیں، ہنستے وقت آپ تمام لوگوں سے زیادہ حسین معلوم ہوتے تھے۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)







    رنگ اور آواز:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کا رنگ گورا تھا لیکن ملاحت آمیز۔ نہ بہت زیادہ سفید تھا نہ بہت زیادہ گندم گوں روشن اور چمکدار تھا، خوش الحانی میں آپ کا کوئی ہمسر نہیں تھا۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    آنکھیں:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کی آنکھیں (بڑی) دراز شگاف تھیں اور اُن میں لال لال ڈورے تھے۔
    (صحیح مسلم)

    دہن مبارک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کا دہن مبارک کشادہ تھا۔
    (صحیح مسلم)

    ریش مبارک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کی ڈاڑھی گھنی اور سیاہ تھی، صرف ہونٹ کے نیچے کے چند بال سفید ہو گئے تھے۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    سر اور موئے مبارک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کا سر مبارک بڑا تھا، سر مبارک کے تمام بال سیاہ تھے، البتٌہ سر کے اگلے حصہ میں چند بال سفید ہو گئے تھے، اگر آپ تیل ڈالتے تو سفید بال نظر نہ آتے تھے، سر اور ڈاڑھی کے سفید بالوں کی تعداد بیس (20) سے زیادہ نہیں تھی، اور بآسانی گنے جاسکتے تھے، بالوں کو زرد رنگ سے رنگ لیا کرتے تھے، سر کے بال (گھونگریالے تھے) نہ بہت زیادہ بل کھائے ہوئے اور نہ بالکل سیدھے (اگر چھوٹے ہوتے تو) نصف کانوں تک ہوتے اور اگر بڑھ جاتے تو کندھوں تک پہنچ جاتے، سر کے بالوں میں آپ مانگ نکالا کرتے تھے۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    سینہ مبارک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کا (سینہ فراخ تھا) دونوں کندھوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    پشت مبارک اور مہر نبوت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کی پشت مبارک پر مہر بنوت تھی، اُس کی شکل چھپرکھٹ کی گھنڈی یا کبوتری کے انڈے کی مثل تھی (یعنی بیضوی) اس کا رنگ وہ ہی تھا جو تمام بدن کا تھا، یہ مہر دونوں کندھوں کے درمیان بائیں شانہ کی نرم ہڈی کے پاس تھی، (اردگرد کے مقابلہ میں) مُٹٌھی (یعنی بیضہ) کے مانند اُبھری ہوئی تھی، اس پر مسٌوں کی مانند کچھ تل تھے۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
    ہتھیلیاں:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کی ہتھیلیاں فراخ، پُر گوشت اور ریشم سے زیادہ نرم تھیں۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    قدم مبارک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کے قدم مبارک پُر گوشت تھے البتہ ایڑیاں کم گوشت تھیں۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    قد زیبا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نہ بہت لمبے تھے نہ پستہ قد، آپ کا قد درمیان تھا۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    بوئے مبارک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کے جسم اطہر کی بو مشک و عمبر سے زیادہ خوشبودار تھی، ہاتھ ٹھنڈے رہتے تھے اور اتنے خوشبودار تھے کہ گویا (ابھی) عطر فروش کے کنٹر میں سے نکالے ہیں، ہاتھوں کی ٹھنڈک برف سے زیادہ تھی اور خوشبو مشک سے زیادہ اچھی تھی۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    پسینہ:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کو پسینہ بہت آتا تھا اور اس طرح ٹپکتا تھا گویا موتی گر رہے ہیں اور اتنا خوشبودار تھا کہ تمام خوشبوئیں اس کےسامنے ہیچ تھیں۔
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    چال:
    (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم کی چال عاجزانہ تھی) آپ آگے کی جانب جھک کر چلتے تھے، منہ موڑ کر ادھر اُدھر نہیں دیکھتے تھے،
    (صحیح بخاری و صحیح مسلم)



    [


 

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •