• The Facebook Platform

Results 1 to 2 of 2
  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Posts
    2,098
    Points
    2,500.87
    Rep Power
    10000

    Default زندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی

    جیسے ہوتی آئی ہے، ویسے بسر ہو جائے گی
    زندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی

    گیسوئے عکسِ شبِ فرقت پریشاں اب بھی ہے
    ہم بھی تو دیکھیں کہ یوں کیوں کر سحر ہو جائے گی

    انتظارِ منزلِ موہوم کا حاصل یہ ہے
    ایک دن ہم پر عنایت کی نظر ہو جائے گی







    سوچتا رہتا ہے دل یہ ساحلِ اُمّید پر
    جستجو، آئینۂ مدّ و جزر ہو جائے گی

    درد کے مشتاق گستاخی تو ہے لیکن معاف
    اب دعا، اندیشہ یہ ہے، کارگر ہو جائے گی

    سانس کے آغوش میں ہر سانس کا نغمہ یہ ہے
    ایک دن، اُمّید ہے اُن کو خبر ہو جائے گی

  2. #2
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    IN THE HEART
    Posts
    191
    Points
    196.45
    Rep Power
    332

    Default

    Bahut khoob.........................nice sharing


 

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •